اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آباد میں منعقدہ 'وحدت امت کانفرنس' سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ قرآنی تعلیمات ہماری رہنمائی کرتی ہیں، مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالیں کیونکہ تفرقہ اور نفاق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا، ایک قوم بننے کے لیے ہمیں تفرقے سے بچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سازشوں کے باعث پاکستان میں مساجد اور امام بارگاہوں میں بم دھماکے ہوئے ہیں، لیکن اس موقع پر بھی فروعی اختلافات کے باوجود عام عوام فرقہ وارانہ جھگڑوں میں نہیں پڑے۔
عارف علوی نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے اپنا اسلحہ فروخت کرنے کے لیے ایران ۔ عراق یہ جنگیں کرائیں، اس جنگ میں 10 سال کے دوران تقریباً 10 لاکھ افراد جانوں سے گئے، آپس کی نااتفاقی و ناچاقی نے عراق اور شام کو تباہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے طرز عمل سے گریز کرنا ہوگا، بعض مذہبی رہنما جذبات میں آکر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن سے نفرتیں بڑھتی ہیں، علمی اور فروعی اختلافات اپنی جگہ لیکن جہالت پر مبنی اختلاف تفرقے کا باعث بنتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے متحد ہو کر کورونا وبا کا مقابلہ کیا، علمائے کرام اور مشائخ نے کورونا وبا سے متعلق مساجد کے ذریعے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن میں نفاق نہیں ہوتا، دنیائے اسلام پاکستان کی طرف دیکھتی ہے کہ ہم ان کی قیادت کریں گے۔
اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلام کے خلاف نفرت اور حضور اکرمؐ کی ناموس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر دوٹوک مؤقف اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اقلیتوں کے ساتھ مثالی سلوک کا عہد کیا ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے اقدامات کے باعث بھارت نفرت کے گڑھے میں گر رہا ہے اور اپنے لیے گڑھا خود کھود رہا ہے۔
وحدتِ امت کانفرنس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ وارانہ تشد اور بے گناہ افراد کے قتل کو غیر اسلامی قرار دیا۔
کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا جس کہا گیا کہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مقرر کو انبیائے کرام، اہل بیت، صحابہ کرام، خلفائے راشدین، ازدواج مطہرات، امام صاحبان اور حضرت امام مہدی کی شان میں گستاخی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲